Hakeem Gulsher Gillani

Hakeem Gulsher Gillani

Hakeem Muhammad Fayyaz

Hakeem Muhammad Fayyaz

پاکستان کے مشہور خاندان فاضلیہ خاندان کے نام ور حکیم حضرت سید گل شیر گیلانی  جو برصغیر کے مشہور معروف عالم دین اور حکیم تھے۔ جن کے بیٹے حکیم محمد فیاض  گیلانی قادری جووقت حاضر کے مشہور حکیم ہیں اور ان کے تعارف میں یہ بات کم نہیں ہے کہ یہ نسل در نسل حکیم ہیں اور شعبہ طب میں کتب اور عملی حکمت میں اپنی مثال آپ ہیں۔ حکیم سید گل شیر گیلانی  صاحب کے مشہور معروف شاگر انڈیا اور پاکستان میں حکیم محمد طارق راولپنڈی اور حکیم پنڈت رام لال باواہ کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔ 

1998 سے حکیم محمدفیاض گیلانی نے عملی حکمت کا آغاز کیا اپنے بزرگ استاد و والد  سید گل شیر گیلانی  صاحب جو کہ مشہور معروف حکیم تھے۔ ان کے ساتھ حکمت کا کام شروع کیا۔ چار سال تک ان کے زیر سایہ حکمت کے اصول سیکھے ۔

2005 میں حکیم محمد فیاض  گیلانی قادری صاحب امریکہ تشریف لے گئے۔ اور وہاں جا کر اپنی ریسرچ ایک امریکن ادارہ میں شروع کی اور علم النباتات، علم الحیوانات، جڑی بوٹیوں اور سیکسالوجی، نامردی مردانہ اور زنانہ بانجھ پن گیٹھیا پر دس سال رسیرچ کی اور اپنا لوہا منوایا۔

فالج، شوگر، بلڈپریشر، ہیپاٹائٹس، معدہ ، گردوں کے امراض، دماغی امراض اور حسن و جمال سے متعلق تمام قسم کے امراض پر مہارت حاصل کی۔ اس کے بعد سری لنکا میں چھ ماہ کا ہربل بیوٹیشن کا کورس کیا پھر پاکستان آکر باقاعدہ طور پر عوام کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں

 

Ilme tib “علم طب” is a real practical Knowledge to serve humanity. Our family ancestor herbal physicians give it a special importance they invented cure with the help of their research about different disease with the passage of time they help out people with their experiences they introduce the herbal school for the first time in the subcontinent and acknowledged people.
Our ancestors migrated from MAKKAH to IRAQ City Bagdad. Where they gave ilme tib along with the Islamic teachings they offer their services at Bagdad They exchange their knowledge about tib with Greek, Sham, Iran and Hindustan herbal physicians after that they prove their intelligence in jilan.
Circumstances changed with the passage of time and Changez Khan attacked on Iraq then they migrated to Subcontinent and stayed at Hyderabad for a short period of time then they move to Multan and remained in the services of Shah Shamas Tabrez after that they move to Btala by the order of Canthel Sharif and Uch Shareef….
In short they benefited people through Islamic teachings and ilme tib after the British attack in India the first work which was done was to make an Islamic school and Victoria pharmacy and Victoria printing house which was changed to Sahabzada Printing Press and Victoria Laboratories of India. According to the British Law Sahabzada Laboratories was launched after five years and then after some period of time Hassan and sons Trader got popularity all over the India.
After that a very sorrowful incident happened in 1947 in the shape of Pak-o-Hind Partition and our whole business comes to an end. Then till 1950 nothing was done in the field of tib. Again work was started on tib by the forcement of Shifa-al-Mulk Hakim Muhammad Hassan Qarshi due to the healthy relations with him along with the encouragement of Hakim Aftaab and Hakim Muhammad Riyaaz Qarshi fully supported. Shortly they came in to the market and proved themselves as Bark Herbal Laboratories in 2002.
In 2005 he sold everything and moved to America (D.C Washington) where they gave his services and after 10 years in 2011 he came back to his homeland Pakistan and made a laboratory named as Ummulshifa Herbal Laboratories where he worked regularly for the services of people and on the forcement of people he gave his services and represent himself in the shape of ummulshifa Herbal Laboratories all over the world.

تاریخ

علم طب ایک حقیقی خدمت خلق کا عملی علم ھے ھمارے خاندان کے اطباء نےاسکو خاص اھمیت دی ھے اس فن کی بدولت مختلیف بیماریوں کا علاج دریافت کیا ھے- اپنے تجربات خدمات اور تصنیفات سے لوگوں کو استفادہ کیا ھے برے صغیر میں سب سے پہلے تب کا سکول متعارف کروایا ہے اور لوگوں کو علم طب کی تعلیم دی ہے 
ہما رے بزرگ مکہ سے ہجرت کر کے عراق کے شہر بغداد میں تشریف لائے جہاں اُنہوں نے لوگوں کو اسلامی تعلیمات کے ساتھ ساتھ علم طب سے بھی روشناس کرایا جہاں اُنہوں نے عربی سریانی زبانوں فلسفہ علم ہندسہ اور علم طب کی تعلیم سے خلق خدا کو مستفید کیا –
 
عراق میں یونانی شامی ایرانی اور ہندستانی اطباء سے اپنی راۓ اور علوم کا تبادلہ کیا کچھ علوم ان کو سکھاۓ اور کچھ ان سے سیکھے پھرجیلان میں اپنی حکمت اور دانائ کے جھنڈے لہراۓ حلات کے نشیب و فراز نے کروٹ لی اور عراق پر چنگیز خان نے حملہ کیا اور وہاں سے برے صغیر کی طرف ہجرت کی اور حیدرآباد میں آۓ وہاں کچھ عرصہ قیام کیا اور پھر ملتان میں شاہ شمس تبریز کی خدمت میں رھے اسکے بعد کینتھل شریف اور اُوچ شریف کے سجادہ نشین کے حکم پربٹالہ شریف تشریف لے آۓ المختصر وہاں پراسلامی تعلیمات اور علم طب کا فیض لوگوں میں تقسیم کرتے رہے انڈیا پر انگریز کے حملے کے بعد سب سے پہلا کام یہ کیا کہ ایک منظم اسلامی مدرسہ اور وکٹوریہ دوا خانہ اور وکٹوریہ چھاپہ خانہ بنایا جو کہ بعد میں صاحبزادہ پرنٹنگ پریس اور وکٹوریہ لیباٹریز آف انڈیا کے نام پر تبدیل ھو گیی انگریز کے قانون کہ مطابق پانچ سال بعد صاحبزادہ لیباٹریز کے نام سے منظرے عام پر آۓکچھ عرصہ کے بعد حسن اینڈ سنز تاجرکے نام سےپورے انڈیا میں مشہور ھو گۓ
 
آب دیدہ واقعہ سے تمام کاروبار ختم ہو کیا جس کے بعد 1950تک علم طب پر کچھ کام نہ ھو سکا چونکہ شفاء الملک حکیم محمد حسن قرشی سے اچھے تعلقات تھے ان کے اصرار پر دوبارہ طب پر کام شروع کیا اور حکیم آفتاب قرشی کی بھی حوصلہ افزایی ساتھ تھی اور حکیم محمد ریاض قرشی نے بھرپور ساتھ دیا المختصر 2002 میں بارک ھربل لیباٹریز کے نام سے مارکیٹ میں آۓ اور اپنا سکہ جمایا
 
2005 میں سب کچھ فروخت کر کے امریکہ (ڈی سی واشنگٹن)میں چلے گۓ اور وہاں اپنی خدمات سر انجام دی اور 10 سال ریسرچ کرنے کے بعد 2011 میں وآپس اپنے وطن (پاکستان) آ کراُم الشفاء ہربل فارما  کے نام سے لوگوں کی خدمت میں شب و روز کام کیا اور خلق خدا کے پُرزوراسرار پر اپنی خدمت کو پوری دنیا کے لیے نجاح اُم لشفاء ہربل فارما کی شکل میں خود کوپیش کیا اپنے خاندانی اور صدری نسخوں کو خلق خدا میں عام کرنے کا عزم کیا ھے۔

 

Share Button